حدیث نمبر: 7277
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَهِمَا فِيهِ فَقَالَ الرَّجُلُ مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْابْنِ وَفِي لَفْظٍ يَا غُلَامُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَاخْتَارَ أُمَّهُ فَذَهَبَتْ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، اس کے خاوند نے اسے طلاق دے رکھی تھی اور وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرو۔ لیکن اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے بچے کے درمیان کون رکاوٹ بن سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بچے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کو چاہتا ہے، منتخب کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی ماں کا انتخاب کیا، پس وہ اسے لے کر چل دی۔

وضاحت:
فوائد: … جب بچہ سن تمیز تک پہنچ جائے تو اس پر قرعہ کرنا یا اس کو اختیار دینا، فریقین اور حاکم کی رضامندی کو دیکھ کر ان میں جو فیصلہ مناسب ہو، اسے اختیار کر لیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان تربية الأطفال / حدیث: 7277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2277، والنسائي: 6/ 185، وابن ماجه: 2351، والترمذي: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9770»