الفتح الربانی
بيان تربية الأطفال— بچوں کی پرورش کا بیان
بَابُ الاسْتِهَامِ عَلَى الطِّفْلِ وَتَخْيِيْرِهِ إِذَا كَانَ مميزا عِنْدَ تَنَازُعَ أَبَوَيْهِ عَلَى حَضَانَتِهِ باب: پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَهِمَا فِيهِ فَقَالَ الرَّجُلُ مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْابْنِ وَفِي لَفْظٍ يَا غُلَامُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَاخْتَارَ أُمَّهُ فَذَهَبَتْ بِهِ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، اس کے خاوند نے اسے طلاق دے رکھی تھی اور وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرو۔ لیکن اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے بچے کے درمیان کون رکاوٹ بن سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بچے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کو چاہتا ہے، منتخب کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی ماں کا انتخاب کیا، پس وہ اسے لے کر چل دی۔