الفتح الربانی
كتاب النفقات— نفقہ کا بیان
بَابُ النَّفْقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَمَنْ يُقَدَّمُ مِنْهُم؟ وَعَلَى مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ باب: اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے¤اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7275
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! اگر تو ضرورت سے زائد بچا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا اور اگر تو اسے روک لے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا اور خرچ کرنے میں ابتدا اس سے کر جس کی تو کفالت کا ذمہ دار ہے اوراگر تیرے پاس پہلے ہی پورا پورا ہے، تو تجھے اللہ تعالیٰ خرچ نہ کرنے پر ملامت نہیں کریں گے اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں صدقہ و خیرات کی تلقین بھی کی گئی ہے اور قرابتداروں کی ترتیب بھی بیان کر دی گئی ہے۔