الفتح الربانی
كتاب النفقات— نفقہ کا بیان
بَابُ النَّفْقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَمَنْ يُقَدَّمُ مِنْهُم؟ وَعَلَى مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ باب: اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے¤اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7272
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبُوكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میری اچھی ہم نشینی کا کون مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھرکون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔