الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ ذَلِكَ باب: اس مسح کی مشروعیت کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ بِالْعِرَاقِ حِينَ يَتَوَضَّأُ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي: سَلْ أَبَاكَ عَمَّا أَنْكَرْتَ عَلَيَّ مِنْ مَسْحِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِذَا حَدَّثَكَ سَعْدٌ بِشَيْءٍ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِسیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ جب وہ وضو کرتے تو موزوں پر مسح کرتے تھے، میں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا، پھر ہوا یوں کہ جب ہم سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس جمَعَ ہوئے تو انھوں نے مجھے کہا: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مجھ پر جو انکار کیا تھا، ذرا اس کے بارے میں اپنے باپ سے پوچھو۔ پس میں نے یہ بات اپنے باپ سیدنا عمر ؓ کے لیے ذکر کی، انھوں نے جواباً کہا: جب سیدنا سعد ؓتم کو کوئی چیز بیان کریں تو اس کا ردّ نہ کیا کرو، کیونکہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔