حدیث نمبر: 7269
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو یربوع کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیچ میں فرمایا: دینے والا ہاتھ بلند ہے، اپنی ماں سے نیکی کرو اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے، پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی جان دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑی جائے گی (یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔

وضاحت:
فوائد: … اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہاتھ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرج القسم الاول منه النسائي: 8/ 54 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23589»