حدیث نمبر: 7265
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَلَى ضَرَّةٍ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں کہ میں تکلف سے اس چیز کی کثرت کا اظہار کروں جو کہ مجھے خاوند نے نہ دی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کا تکلف سے اظہار کرنے والا، جو وہ دیا نہیں گیا، اسی طرح ہے جس طرح جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ عورت خود سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا تھیں اور اور ان کی سوکن سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا تھیں، یہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویاں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5219، ومسلم: 2130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27460»