الفتح الربانی
كتاب النفقات— نفقہ کا بیان
بَابُ وُجُوبِ نَفْقَةِ الزَّوْجَةِ بِاعْتِبَارِ حَالِ الْزَوج وَأَنَّهَا مُقَدَّمَةٌ عَلَى الْأَقَارِبِ وَ ثَوَابِ الزَّوْجِ عَلَيْهَا باب: خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
حدیث نمبر: 7261
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جب ثواب کی نیت سے اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیوی پر خرچ کرنا محض کوئی بوجھ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف سے عائد ہونے والا حق ہے، اس کو اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے، حسب ِ استطاعت اور عرف اور معاشرے کے مطابق بیوی کے لباس، خوراک اور خوشی غمی کا خیال رکھنا چاہیے اور اس کو اس پر خرچ کیے ہوئے کا احسان بھی نہیں جتلانا چاہیے، جواباً بیوی کو خاوند کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔