الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ ذَلِكَ باب: اس مسح کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 726
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ أَوْ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا، یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن ان لوگوں سے پوچھو تو سہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ مائدہ کے نزول سے پہلے مسح کیا یا بعد میں، اللہ کی قسم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ مائدہ کے بعد مسح نہیں کیا، مجھے تو موزوں پر مسح کرنے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند ہے کہ جنگل میں کسی راہ گیر کی کمر پر ہاتھ پھیر لوں۔