حدیث نمبر: 7256
عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ ابْنُ مَوْلَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ هَذَا الشَّهْرَ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَاتْرُكْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ وہب بن جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے ان کے ایک غلام کے بیٹے نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ماہِ رمضان یہاں بیت المقدس میں گزاروں۔ انہوں نے کہا: کیا تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اس ماہ مبارک کی خوراک چھوڑ آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: تو پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جا اور ان کی خوراک کا بندوبست کر کے آ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے، ان کو ضائع کر دے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑا اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر علمائ، خطباء اور مبلغین حضرات کے لیے، کیونکہ بسا اوقات آدمی افراط و تفریط میں اس طرح مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ ایک فرض کو اتنی زیادہ اہمیت دے دیتا ہے کہ دوسرے فرائض سے مکمل طور پر غافل ہو جاتا ہے، بیوی بچوں اور والدین کی خدمت بھی دوسرے فرائض و واجبات کی طرح انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7256
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2281، والبيھقي: 7/ 467، وأخرجه مختصرا ابوداود: 1692 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6842»