الفتح الربانی
كتاب النفقات— نفقہ کا بیان
بَابُ وُجُوبِ نَفْقَةِ الزَّوْجَةِ بِاعْتِبَارِ حَالِ الْزَوج وَأَنَّهَا مُقَدَّمَةٌ عَلَى الْأَقَارِبِ وَ ثَوَابِ الزَّوْجِ عَلَيْهَا باب: خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ ابْنُ مَوْلَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ هَذَا الشَّهْرَ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَاتْرُكْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ۔ وہب بن جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے ان کے ایک غلام کے بیٹے نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ماہِ رمضان یہاں بیت المقدس میں گزاروں۔ انہوں نے کہا: کیا تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اس ماہ مبارک کی خوراک چھوڑ آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: تو پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جا اور ان کی خوراک کا بندوبست کر کے آ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے، ان کو ضائع کر دے۔