حدیث نمبر: 7252
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میری خالہ کو طلاق ہو گئی، وہ ابھی تک عدت میں تھیں، لیکن انہوں نے چاہا کہ وہ کھجوروں کا پھل اتار لائیں، ایک آدمی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیااور کہا کہ وہ باہر نہ جائیں، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل اتار سکتی ہو، ممکن ہے کہ تم اس سے صدقہ کرو یا نیکی کا کوئی کام سر انجام دو۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کا کام کرنے والا اور کوئی نہ ہو تو وہ دوران عدت باہر جا سکتی ہے، خصوصاً جب نیکی کے کام یا صدقہ و خیرات کرنا ہو تو پھر تو بہت بہتر ہے، بشرطیکہ مجبوری ہو، حتی الامکان باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7252
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14498»