حدیث نمبر: 7251
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى فَأَبَى مَرْوَانُ إِلَّا أَنْ يَتَّهِمَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ قَالَ فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوسلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ سیدنا ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے انہیں آخری اور تیسری طلاق دے دی اور کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور اپنے گھر سے باہر آنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ، جو نابینا صحابی تھے، کے گھر منتقل ہونے کا حکم دیا، مروان نے فاطمہ کی اس بات کو مورد الزام ٹھہرایا کہ طلاق والی اپنے گھر سے نکل سکتی ہے۔ عروہ کا خیال ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کا انکار کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ان تمام احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ طلاق بائنہ والی خاتون کے بارے میں مسئلہ وہی ہے، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایسی خاتون کا نان و نفقہ اور رہائش خاوند کی ذمہ داری نہیں ہوتی، ہاں اگر وہ حاملہ ہو تو خاوند پابند ہو گا، بہرحال پھر بھی اس کو رجوع کا حق نہیں ہو گا، اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7251
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1480 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27890»