الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ ذَلِكَ باب: اس مسح کی مشروعیت کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ بُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَكَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِہَمَّام کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ کسی نے ان سے کہا: آپ یہ مسح کر رہے ہیں، جبکہ آپ نے تو پیشاب بھی کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند آتی تھی، کیونکہ سیدنا جریرؓ سورۂ مائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔