حدیث نمبر: 7248
عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ ثَنَا عَامِرٌ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَعَلَّهَا نَسِيَتْ قَالَ قَالَ عَامِرٌ وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دی تھیں، سو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور خاوند کی شکایت کرنے لگیں کہ اس نے مجھے نہ تو رہائش دی اور نہ ہی نان و نفقہ دیا۔ لیکن سیدہ فاطمہ کے جواب میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑیں گے،ممکن ہے کہ وہ بھول گئی ہو۔ عامر شبعی کہتے ہیں: سیدہ فاطمہ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دلیل یہ آیت تھی: {لَاتُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ} … (تم طلاق دینے کے بعد اپنی بیویوں کو) نہ ان کے گھر سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ (سورۂ: طلاق:۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث فاطمة صحيح، أخرجه الخطيب في تاريخه : 3/ 71 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27881»