الفتح الربانی
كتاب العدد— عدتوں کا بیان
بَابُ نَفَقَةِ الْمُطَلَّقَةِ الْبَائِنِ وَسُكْنَاهَا وَخُرُوجِهَا لِلْحَاجَةِ باب: مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
حدیث نمبر: 7246
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ لِي فِيهِ خَيْرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ابو عمرو بن حفص نے مجھے طلاق بائنہ دے دی اور وہ خود یہاں موجود نہ تھے، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اورپھر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسامہ سے نکاح کر لو۔ میں نے اسے ناپسند کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: بس تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ تو میں نے آپ کے حکم پر ان سے نکاح کر لیا اوراس میں اللہ تعالیٰ نے بہت خیر پیدا فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے مختلف مجلسوں میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، چونکہ تین طلاقوں کے بعد خاوند کو رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسی خاتون کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار بھی نہیں ہوتا، ایسی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کسی مناسب جگہ پر عدت گزار سکتی ہے۔