حدیث نمبر: 7245
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَلَمَّا حَلَلْتُ خَطَبَنِي مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَعَائِلٌ لَا مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَإِنَّهُ لَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ أَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَكَانَ أَهْلُهَا كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَتْ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَكَحْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدہ فاطمہ کہتی ہیں: جب میں عدت سے فارغ ہوئی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان افراد کے بارے میں فرمایا: معاویہ رضی اللہ عنہ تو فقیر ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، اورابو جہم رضی اللہ عنہ تو ہر وقت اپنے کندھے پر لاٹھی ہی اٹھائے رکھتا ہے، تم لوگ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ سیدہ فاطمہ کے گھروالوں نے یہ پسند نہ کیا، لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تو صرف اسی سے شادی کروں گی، جس سے شادی کرنے کی تجویز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہے، پس میں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27876»