الفتح الربانی
كتاب العدد— عدتوں کا بیان
نابُ أَيْنَ تَعْتَدُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ أَمْ لَا؟ باب: متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کہاں عدت گزارے گی، آیا ایسی عورت کو نان و نفقہ دیا جائے گا
عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوهُ فَأَتَانِي نَعْيُهُ وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقُلْتُ إِنَّ نَعْيَ زَوْجِي أَتَانِي فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي وَلَمْ يَدَعْ لِي نَفَقَةً وَلَا مَالًا لِوَرَثَتِهِ وَلَيْسَ الْمَسْكَنُ لَهُ فَلَوْ تَحَوَّلْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَخْوَالِي لَكَانَ أَرْفَقَ بِي فِي بَعْضِ شَأْنِي قَالَ تَحَوَّلِي فَلَمَّا خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى الْحُجْرَةِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ فَقَالَ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي أَتَاكِ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَخَذَ بِهِ۔ سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند اپنے مضبوط جسم والے غلاموں کی تلاش میں نکلا، جوبھاگ گئے تھے، اس نے ان غلاموں کو قدوم مقام پر پا تو لیا، لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے مل کر میرے خاوند کو قتل کر دیا، میرے خاندان والوں کے اس گھر میں مجھے میرے خاوند کی موت کی اطلاع ملی جو آباد ی سے دور تھا اور نہ ہی میرے خاوند نے میرے لئے کوئی خرچہ چھوڑا تھا، نہ ہی ورثاء کے لیے کوئی مال چھوڑا اور نہ ہی ان کا اپنا گھر ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ساری باتیں بیان کیں اور میں نے اجازت طلب کی کہ میں اپنے ماموؤں کے گھر میں اگر منتقل ہو جاؤں تو میرے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، منتقل ہو جاؤ۔ جب میں آپ کے پاس سے نکل کر مسجد یا حجرہ تک ہی پہنچی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے اسی گھر میں عدت پوری ہونے تک ٹھہری رہو، جس میں تمہارے خاوند کی وفات کی اطلاع آئی تھی۔ پس میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں میری طرف پیغام بھیجا، میں نے انہیں اس مسئلہ کی خبر دی تو پھر انہوں نے اسی کے مطابق عمل کیا تھا۔