حدیث نمبر: 7238
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا إِنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، قَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، قَالَ صلى الله عليه وآله وسلم: ((قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ بِهَا كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوا اور اس کی آنکھ خراب ہو گئی، اس کے گھر والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور سرمہ ڈالنے کی اجازت چاہی، انہوں نے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی آنکھوں کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین لباس میں بدترین مقام پر ایک سال تک ٹھہرا کرتی تھی اور جب اس کے پاس سے کتا گزرتا تھا تو لید پھینکا کرتی تھی، کیا اب وہ چار ماہ دس دن بھی صبر نہیں کر سکتی۔

وضاحت:
فوائد: … جاہلیت میں سوگ والی عورت ایک علیحدہ چھوٹا سا کمرہ تیار کر لیتی اور سب سے نکمے کپڑے پہن لیتی تھی اورخوشبو کو ہاتھ نہ لگاتی تھی، ایک سال تک اسی حالت میں عدت گزارتی تھی اور جب فارغ ہوتی تو سال کے آخر میں شرم گاہ پر لید لگا کر باہر پھینکتی کہ آج میں عدت سے فارغ ہو گئی ہوں، اللہ تعالیٰ نے سال کی عدت ختم کرکے چار ماہ دس دن کر دی ہے اور اس میں بھی جاہلیت کی کئی پابندیاں اٹھا دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5338، ومسلم: 1488، وابوداود: 2299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27034»