الفتح الربانی
كتاب العدد— عدتوں کا بیان
بَابُ إِنَّ عِدَّةَ الْحَامِلِ بِوَضْعِ الْحَمَلِ سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةٌ أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا لِقَوْلِ اللهِ: «وَالاتُ الاحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمَلَهُنَّ» باب: حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
حدیث نمبر: 7236
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَوْ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا؟ قَالَ: ((هِيَ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا وَلِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: قرآن مجید کی آیت {وَاُلاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} میں مذکور عدت ان عورتوں کی ہے جن کو تین طلاقیں دی جا چکی ہوں یا یہ بیوہ عورت کی عد ت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: دونوں کے لئے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے، ان کو طلاق ہوئی ہو یا ان کا خاوند فوت ہوا ہو۔