الفتح الربانی
كتاب العدد— عدتوں کا بیان
بَابُ إِنَّ عِدَّةَ الْحَامِلِ بِوَضْعِ الْحَمَلِ سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةٌ أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا لِقَوْلِ اللهِ: «وَالاتُ الاحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمَلَهُنَّ» باب: حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰى سُبَيْعَةَ بِنْتِ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَسَأَلْتُهَا عَنْ أَمْرِهَا فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ فَتُوُفِّيَ عَنِّي فَلَمْ أَمْكُثْ إِلَّا شَهْرَيْنِ حَتّٰى وَضَعْتُ قَالَتْ فَخَطَبَنِي أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَتَهَيَّأْتُ لِلنِّكَاحِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ حَمَوَايَّ وَقَدْ اخْتَضَبْتُ وَتَهَيَّأْتُ فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدِينَ؟ يَا سُبَيْعَةُ! قَالَتْ فَقُلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا لَكِ مِنْ زَوْجٍ حَتّٰى تَعْتَدِّيْنَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ صلى الله عليه وآله وسلم: ((قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي۔))۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ سبیعہ بنت ابی برزہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے ان کے معاملہ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: میں سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی، وہ فوت ہو گئے اوران کی وفات کے صرف دو ماہ بعد میں نے بچہ جنم دیا، اُدھر بنو عبددار والے ابو سنابل بن بعکک نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نکاح کرنے کے لیے تیار تھی کہ میرا دیور میرے پاس آیا، میں نے مہندی بھی لگا لی اور مکمل تیاری کر لی، اس نے کہا: اے سبیعہ کیا کرنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: میں شادی کرنا چاہتی ہوں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تو ابھی شادی نہیں کر سکتی، جب تک کہ چار ماہ دس دن عدت نہ گزار لے، سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو حلال ہو چکی ہے اور شادی کر سکتی ہے۔