الفتح الربانی
كتاب العدد— عدتوں کا بیان
بَابُ إِنَّ عِدَّةَ الْحَامِلِ بِوَضْعِ الْحَمَلِ سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةٌ أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا لِقَوْلِ اللهِ: «وَالاتُ الاحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمَلَهُنَّ» باب: حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
حدیث نمبر: 7234
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ بْنِ بَعْكَكٍ قَالَ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِهَا بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلنِّكَاحِ فَاُنْكِرَ ذٰلِكَ عَلَيْهَا وَذُكِرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ حَلَّ أَجَلُهَا قَالَ عَفَّانُ فَقَدْ خَلٰى أَجَلُهَا۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ سبیعہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات سے تئیس یا پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا، جب مدت نفاس گزر چکی تو اس نے نئی شادی میں رغبت کا اظہار کیا، لیکن اس پر اعتراض کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اس چیز کا تذکرہ کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ عورت ایسا کرنا چاہے تو وہ کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت وضع حمل کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے۔