حدیث نمبر: 7233
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِهَا بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ: كَأَنَّكِ تُحَدِّثِينَ نَفْسَكِ بِالْبَائَةِ مَا لَكِ ذٰلِكَ حَتّٰى يَنْقَضِيَ أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ، فَانْطَلَقَتْ إِلٰى رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ فَأْتِينِي بِهِ أَوْ قَالَ فَأَنْبِئِينِي۔)) فَأَخْبَرَهَا أَنَّ عِدَّتَهَا قَدِ انْقَضَتْ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے پندرہ دن بعد بچے کوجنم دیا، ان کے پاس سیدنا ابو سنابل آئے اور کہا: معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں نکاح کرنے کا خیال گردش کر رہا ہے، تمہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی حتیٰ کہ دو عدتوں میں سے دور والی عدت نہ گزار لو، یہ سن کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور ابوسنابل کی بات کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو سنابل غلط کہہ رہا ہے، تمہاری عدت پوری ہو چکی ہے، جب تمہارے لیے مناسب یا تمہاری پسند کا رشتہ آئے تو میرے پاس آنا اور مجھے اس کی اطلاع دینا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خبر دی کہ اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7233
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن جعفر سمع من سعيد بن ابي عروبة بعد اختلاطه، وقد اعله احمد بالارسال ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4273»