الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ التَّعْلِيطِ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ وفيمن انتفى مِنْ وَلَدِهِ وَهُوَ يَعْلَمُ باب: جو قصداً اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور جو شخص اپنی ہی اولاد سے انکار کرے اس کی سزا کا بیان
حدیث نمبر: 7231
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنِ انْتَفٰی مِنْ وَلَدِہٖ لِیَفْضَحَہُ فِی الدُّنْیَا فَضَحَ اللّٰہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رُؤُوسِ الْاَشْہَادِ، وَقِصَاصٌ بِقِصَاصٍ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنی اولادکو دنیا میں رسوا کرنے کے لئے اس کا انکار کر دیا، قیامت والے دن اللہ اس کو سرِعام رسوا کرے گااور قیامت والے دن ادلے کا بدلہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … تمام روایات اپنے مفہوم میں واضح ہیں، اگر مسلمان کے نسب کو کم تر سمجھا جاتا ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر راضی ہو کر صبر کرے اور اگر وہ اعلی نسب ہو تو وہ اس پر فخر اور ناز نہ کرے، کسی کی عزت یا بے عزت کی خاطر نہ نسبت بدلنا چاہیے اور نہ کسی کے نسب کا انکار کرنا چاہیے۔