الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ التَّعْلِيطِ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ وفيمن انتفى مِنْ وَلَدِهِ وَهُوَ يَعْلَمُ باب: جو قصداً اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور جو شخص اپنی ہی اولاد سے انکار کرے اس کی سزا کا بیان
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمَّا ادَّعَى زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ) وَأَنَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ ابو عثمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب زیاد نے دعویٰ کیاتومیں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا ہے؟ اس کے جواب میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غیر باپ کی طرف باپ ہونے کی نسبت کی اور جانتے ہوئے ایسا کیا ،تو اس پر جنت حرام ہو گی۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، ایک روایت میں ہے: میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کیا ہے۔