الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
باب الْحُجَّةِ فِي الْعَمَلِ بِالْقَافَةِ باب: قیافہ کے جواز کا بیان
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ وَقَدْ غَطَّيَا رُؤُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَقَالَتْ مَرَّةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ قبیلہ مدلج کا ایک قیافہ شناس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جب اس نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے باپ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ ان دونوں نے ایک چادر اوڑ ھ کر اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے، جبکہ ان دونوں کے پا ؤں چادر سے باہر تھے۔ اس نے دیکھتے ہی کہا: یقینا یہ پاؤں ایک دوسرے (باپ بیٹے) ہی کے معلوم ہوتے ہیں۔سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد خوش تھے۔