حدیث نمبر: 7222
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُمْ بَعْدَ إِنْكَارِهِمْ إِنَّكُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَقَالَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيِ الدِّيَّةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے انکار کے بعد ان سے کہا: تم ایسے شریک ہو، جو آپس میں جھگڑنے والے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ ڈالوں گا، تم میں سے جس کے نام بھی قرعہ نکلے گا، اسے دیت کے تین میں سے دو حصے ادا کرنے کی چٹی ڈالوں گا اور بچہ بھی لازمی اسے ہی لینا پڑے گا، جب اس فیصلہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فیصلہ علی نے کیا ہے، وہی سمجھ آتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ واقعہ دورِ جاہلیت کا تھا، کیونکہ اسلام میں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ تین آدمی ایک طہر میں ایک عورت سے جماع کریں، چونکہ جاہلیت کے کاموں پر سزا نہیں دی جا سکتی تھی، بلکہ اس دور کے تصرفات کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا کہ جو ہوا سو ہوا، آئندہ کے لیے منع ہے، اس لیے اس واقعہ کا حل بھی ضروری تھی، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خداداد ذہانت سے تجویز فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19557»