حدیث نمبر: 7221
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْيَمَنِ فَأُتِيَ بِامْرَأَةٍ وَطِئَهَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ حَتَّى فَرَغَ يَسْأَلُ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ عَنْ وَاحِدٍ فَلَمْ يُقِرُّوا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْزَمَ الْوَلَدَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَرُفِعَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے، آپ کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس کے ساتھ ایک طہر میں تین افراد نے جماع کیا تھا، آپ نے ان میں سے دو افراد سے کہا: کیا تم دونوں اس بچے کا تیسرے کے حق میں اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا، پھر دو سے سوال کیا کہ کیا تم تیسرے کے لیے اس بچے کا اقرارکرتے ہو، انہوں نے بھی یہ اقرار نہ کیا، پھردو سے پوچھا،لیکن انھوں نے بھی اقرار نہ کیا، پھر انھوں نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور بچہ اس کے لیے لازم قرار دے دیا، جس کے نام قرعہ نکلا تھا اور اس کے ذمہ دیت کے تین حصوں میں سے دو حصے ادا کرنا لازم کر دیے، یہ معاملہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نمایاں ہو نے لگیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2269، 2270، والنسائي: 6/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19544»