الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ باب: اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7220
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ وَمَنِ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں اجرت پر زنا کاری کا کوئی وجود نہیں،جس نے جاہلیت میں ایسا کیا ہے تو میں اس کا نسب اس کے باپ کے رشتہ داروں سے جوڑتا ہوں اور جو کوئی بغیر نکاح کے کسی کا باپ ہونے کا دعوی کرے تو نہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور نہ ہی وہ اس بچے کا وارث ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ثات ہوا کہ زنا سے نسب و وارثت ثابت نہیں ہوتے۔