الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ باب: اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ قَالَ إِنَّ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي زَمْعَةَ مَاتَ وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ أَنَّهَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُهَا بِشِبْهِ الرَّجُلِ الَّذِي طَنَنَّاهَا بِهِ قَالَتْ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ بِأَخِيكِ وَلَهُ الْمِيرَاثُ۔ آل زبیر کے مولی مجاہد بیان کرتے ہیں، زمعہ کی بیٹی یعنی ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے کہا: میرے باپ زمعہ فوت ہو چکے اور ایک لونڈی ام ولد جس سے بچہ پیداہوا ہے، چھوڑ گئے ہیں، ہم اسے ایک آدمی (عتبہ بن ابی وقاص) کے ساتھ تہمت لگاتے تھے کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے، اتفاق ایسا ہے کہ جو بچہ اس نے جنم دیا ہے، وہ اسی عتبہ کے مشابہ ہے، جس کے ساتھ ہم نے تہمت لگائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا: تم اس سے پردہ کیا کرو، وہ تیرا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے وراثت ملے گی۔