الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ باب: اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اخْتَصَمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ قَالَ عَبْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ وَقَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرْ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ قَالَ هُوَ لَكَ (وَفِي لَفْظٍ هُوَ أَخُوكَ) يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عبد بن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جھگڑا کیا، عبد بن زمعہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بھائی ہے، کیونکہ یہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی نے جب میں مکہ میں آیا تھا تو کہا تھا کہ جب تو مکہ میں آئے تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھنا وہ میرا بیٹا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کی مشابہت تو عتبہ کے ساتھ دیکھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سودہ! اس سے پردہ کیا کرو۔