حدیث نمبر: 7215
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اخْتَصَمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ قَالَ عَبْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ وَقَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرْ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ قَالَ هُوَ لَكَ (وَفِي لَفْظٍ هُوَ أَخُوكَ) يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عبد بن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جھگڑا کیا، عبد بن زمعہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بھائی ہے، کیونکہ یہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی نے جب میں مکہ میں آیا تھا تو کہا تھا کہ جب تو مکہ میں آئے تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھنا وہ میرا بیٹا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کی مشابہت تو عتبہ کے ساتھ دیکھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سودہ! اس سے پردہ کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … جس بچے کے بارے میں جھگڑا تھا، وہ زمعہ کی لونڈی سے پیدا ہوا تھا، حقیقتاً وہ عتبہ کے ناجائز نطفے سے تھا، جاہلیت میں لونڈیوں سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو دعوی کرنے والے زانی کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا، سعد رضی اللہ عنہ کا دعوی اسی جاہلی رواج کی بنا پر تھا، لیکن اسلام نے اس قبیح رسم کو ختم کیا کہ اب زانی کی طرف بچہ منسوب نہیں ہو گا، عورت کا خاوند یا مالک انکار نہ کرے تو اسی کا بیٹا ہو گا، اگر وہ انکار کر دے تو جننے والی ماں کی طرف منسوب ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2421، ومسلم: 1457 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24587»