الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ تَحْدِيدِ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ اللعَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم باب: لعان کے بارے میں زمان و مکان کی حد بندی
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَتَلَاعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا ق۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، جب دو میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے، لہذا میں اسے ساتھ نہیں رکھوں گا۔سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لعان کرنے والی عورت نے ناپسندیدہ صفت میں بچہ جنم دیا تھا۔