الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ لَا يَجْتَمِعُ الْمُتَلاعِنَانَ آبَدًا وَلَهَا مَهْرُهَا باب: لعان کرنے والے میاں بیوی ہمیشہ کے لیے جداہو جاتے ہیں اور مہر عورت کو دیا جائے گا
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا: تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: تیرا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ادا کئے ہوئے حق مہر کاکیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس عورت کے مقابلے میں سچا ہے تو یہ حق مہر اس کے عوض ہو جائے گا جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھے رکھا، اور اگر تم نے جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو وہ تجھ سے بہت دور ہے۔