الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ سُقوطِ نَفَقَةِ الْمُلَا عَنَةِ وَعَدْمٍ قَدَفِهَا وَإِنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لَابِ باب: یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7208
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ إِنَّهُ يَرِثُ مِيرَاثَ أُمِّهِ وَتَرِثُهُ وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ دیا کہ ایسی اولاد اپنی ماں کی وارث بنے گی اور ماں اولاد کی وارث ہوگی۔ جو شخص لعان کے بعد عورت اور اس کی اولاد پر تہمت لگائے گا اسے اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں بھی جو مسئلے بیان کیے گئے ہیں، وہ دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہیں۔