الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ سُقوطِ نَفَقَةِ الْمُلَا عَنَةِ وَعَدْمٍ قَدَفِهَا وَإِنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لَابِ باب: یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7207
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کی اولاد سے اپنی نسبت کا بھی انکار کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مابین علیحدگی کروا دی اور بچے کی نسبت خاتون کے ساتھ کردی۔
وضاحت:
فوائد: … لعان کے بعد پیدا ہونے والا بچہ صرف ماں کی طرف منسوب ہو گا۔