الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ مَا كَانَ مِنْ الْجَابِ الْحَدْ عَلَى مَنْ قَدَّفَ زَوْجَتَهُ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَبْلَ نُزُولِ آيَاتِ اللعان باب: لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَشِيَّةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ صَالِحًا لَأَسْأَلَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ اللَّهُمَّ احْكُمْ قَالَ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ قَالَ فَكَانَ ذَاكَ الرَّجُلُ أَوَّلَ مَنِ ابْتُلِيَ بِهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کی شام کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا:بتاؤ اگر ہم میں سے ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، اب اگر وہ اسے قتل کرے تو تم اسے قتل کردو گے، اگر وہ بات کرے تو تم اس پر تہمت کی حد لگاؤ گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو بہت زیادہ غصہ اس کی خاموشی میں دبا ہو گا، اللہ کی قسم! اگر میں صبح تک صحیح سلامت رہا تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لیتا ہے، اب اگر وہ اس کو قتل کر دے تو تم لوگ اس کو قتل کر دو گے، اگر وہ یہ بات کرے تو تم اس کو تہمت کی حد لگا دو گے، اور اگر وہ خاموش رہتاہے تو اس کی خاموشی کے نیچے غضب دبا ہوا ہو گا، اے میرے اللہ! اس چیز کا فیصلہ کر دے، پس لعان کی آیات نازل ہوئیں۔ سیدنا عبد اللہ کہتے ہیں: سب سے پہلے وہی آدمی، جو یہ سوال کر رہا تھا، لعان کی آزمائش سے گزرا، اسی سے آغاز ہوا تھا۔