الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ مَا كَانَ مِنْ الْجَابِ الْحَدْ عَلَى مَنْ قَدَّفَ زَوْجَتَهُ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَبْلَ نُزُولِ آيَاتِ اللعان باب: لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پرزنا کی تہمت لگائی تو ان سے کسی نے کہا تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقینا اسی کوڑے لگائیں گے جو کہ تہمت کی حد ہے) تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے کہ وہ مجھے اسی کوڑے لگنے دے، کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ میں نے ایسے ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے یقین ہے، اور میں نے ایسی باتیں سنی ہیں کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ (میری بیوی سے برائی ہوئی ہے)، اللہ کی قسم! مجھے وہ کبھی بھی کوڑے نہیں لگنے دے گا، پس لعان والی آیت نازل ہوئی۔