الفتح الربانی
كتاب اللعان— لعان کی کتاب
بَابُ مَا كَانَ مِنْ الْجَابِ الْحَدْ عَلَى مَنْ قَدَّفَ زَوْجَتَهُ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَبْلَ نُزُولِ آيَاتِ اللعان باب: لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
حدیث نمبر: 7194
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ نَعَمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لوں، تو کیا اس کو اس وقت تک مہلت دے دوں، جب تک چار گواہ پیش نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ چارگواہوں کا سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو دیکھ کر برداشت نہ کروں گا، گواہ لانا تو بعد کی بات ہے، میں تو اس سے پہلے پہلے تلوار مار کر اس آدمی کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو، تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے، یہ بڑا غیرت مند ہے اور میں اس سے بڑھ کر غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہیں۔ (صحیح مسلم)