الفتح الربانی
كتاب الإيلاء— ایلاء کے مسائل
وَتَفْسِيرُ قَوْلِهِ تَعَالَى: «لِلَّذِينَ يُولُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرِ» الآيَاتِ باب: {لِلَّذِیْنَ یُوْلُوْنَ مِنْ نِسَائِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ … }کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 7188
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ تک اپنی بعض بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھا لی، جب انتیس دن گزر گئے تو صبح یا شام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے۔کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے تو ایک ماہ تک ان کے پاس داخل نہ ہونے کی قسم کھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: یہ بلا شبہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔