الفتح الربانی
كتاب الإيلاء— ایلاء کے مسائل
وَتَفْسِيرُ قَوْلِهِ تَعَالَى: «لِلَّذِينَ يُولُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرِ» الآيَاتِ باب: {لِلَّذِیْنَ یُوْلُوْنَ مِنْ نِسَائِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ … }کی تفسیر کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا قَالَتْ فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ قَالَتْ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِهِ فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ كُنْتَ أَقْسَمْتَ شَهْرًا فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن تک رکے رہے، پھر میں وہ پہلی بیوی تھی، جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے تشریف لائے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم نہیں اٹھائی تھی؟میں نے تو ابھی انتیس دن شمار کئے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فرمایا: (یہ) مہینہ انتیس دن کا ہے۔