الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَجَوَازِ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ باب: ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 718
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟)) قَالَ: مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ((مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت باوضو رہنے کا اہتمام نہیں کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلاء سے خارج ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا پیش کر دیا گیا، لوگوں نے کہا کہ کیا ہم وضو کا پانی لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا اُمِرْتُ بِالْوُضُوْئِ اِذَا قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) … مجھے صرف وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نماز ادا کرنے لگوں۔