الفتح الربانی
كتاب الخلع— خلع کا بیان
بَابُ الْأَشْهَادِ عَلَيْهَا وَبِمَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ باب: رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ الْغُمَيْصَاءُ أَوِ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا وَتَزْعَمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کی اور اس نے یہ تاثر بھی دیا کہ اس کا خاوند اس تک پہنچ نہیں پاتا (یعنی اس میں جماع کی صلاحیت نہیں ہے) ،تھوڑی دیر تک اس کا خاوند بھی آ گیا اور اس نے بتایا کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ کسی طرح پہلے خاوند کے پاس چلی جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: اس کی تجھے اس وقت تک اجازت نہیں، جب تک دوسرا مرد تجھ سے بذریعہ نکاح لطف اندوز نہ ہو جائے۔