الفتح الربانی
كتاب الخلع— خلع کا بیان
بَابُ الْأَشْهَادِ عَلَيْهَا وَبِمَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ باب: رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
حدیث نمبر: 7176
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَيَتَزَوَّجُهَا آخَرُ فَيُغْلِقُ الْبَابَ وَيُرْخِي السِّتْرَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا هَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ قَالَ لَا حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں، پھر کسی دوسرے شخص نے اس سے شادی کر کے دروازہ بند کیا ہو اور پردہ لٹکا لیا ہو (یعنی خلوت میں لے گیا ہو)،لیکن پھربغیر جماع کیے اسے طلاق دے دے، تو کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک دوسرا شوہر اس سے جماع کرکے لطف اندوز نہ ہو لے۔