حدیث نمبر: 7175
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ثُمَّ يُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا جِدًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر مدینہ کی جانب سفر کیا تاکہ وہاں موجود اپنی جاگیر کو فروخت کریں اور اسے ہتھیار اورگھوڑے خریدنے پر صرف کریں اور رومیوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو جائیں، اس دوران ان کی ملاقات اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ ہوئی، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چھ افراد نے اسی طرح کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ کیا تمہارے لیے میرے اندر عمدہ نمونہ نہیں ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا، یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں گواہ بنا کر کہا کہ اس نے اپنی بیوی سے رجوع کیا، پھر وہ ہماری طرف آئے اور ہمیں بتایا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس گئے اور ان سے وتر کے متعلق سوال کیا، پھر طویل حدیث بیان کی۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوْا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ} … پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ (سورۂ طلاق: ۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلع / حدیث: 7175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، ھذا حديث طويل، أخرجه بتمامه و مختصرا ابوداود: 1343، والنسائي: 3/ 60 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24773»