الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ عدم وقوعِ الطَّلَاقِ مِنَ النَّائِمِ وَالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونَ وَبِحَدِيثِ النَّفْسِ باب: سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((تُجُوِّزَ (وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ) لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ))۔ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے(افراد کے دل میں آنے والے فاسد) خیالات اور دلی وسوسوں سے تب تک در گزر فرمایا ہے، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یاانہیں زبان پر نہ لا یا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر طلاق کا وسوسہ یا خیال پیدا ہو جائے، لیکن اس کا زبان سے اظہار نہ کیا جائے تو وہ واقع نہیں ہو گی۔