الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الْعَبْدِ باب: غلام کی طلاق کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ اِمْرَأَتَهُ بِطَلِقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذٰلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ) قَالَ أَبِي: قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ! مَنْ أَبُو حَسَنٍ هٰذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً۔۔ (دوسری سند) ابو حسن سے ہی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا، جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی ہوں، پھر وہ دونوں آزاد ہو جائیں،تو کیاوہ اس لونڈی کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ کسی نے کہا: تم یہ کس سے بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی چیز کا فتویٰ دیا تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں:میرے باپ اما م احمد رحمہ اللہ علیہ نے کہا: معمر سے پوچھا گیا: یہ ابو حسن کون ہے؟ اس نے ایک بڑی بھاری چٹان اٹھائی ہے (یعنی بے بنیاد سی بات کی ہے)۔