الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلاقِ الْمُكْرَهِ وَمَنْ عَلَّقَ الطَّلاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ باب: زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
حدیث نمبر: 7166
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو خاوند بننے سے پہلے خاتون کو طلاق دینے کا، ملکیت سے پہلے غلام کو آزاد کرنے کا اور مالک بننے سے پہلے کوئی چیز بیچنے کا کوئی اختیار نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر ایک آدمی کہتا ہے کہ اگر فلاں عورت سے میرا نکاح ہوا تو اسے میں طلاق دے دوں گا، یا اسے طلاق ہو جائے گی، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ جب وہ یہ بات کہہ رہا ہوتا ہے، اس وقت وہ خاوند اور مالک نہیں ہوتا، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مؤقف ہے کہ نکاح سے پہلے کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔