الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلاقِ الْمُكْرَهِ وَمَنْ عَلَّقَ الطَّلاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ باب: زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
حدیث نمبر: 7165
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: ((لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ))۔ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زبردستی میں نہ تو طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی کسی غلام کی آزادی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی زور آور کسی کمزور پر رعب جماتے ہوئے یا اسلحہ کے زور پر یا کسی بھی زبردستی کے انداز میں مجبور کرتے ہوئے کہے کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دے یا اپنے لونڈی یا غلام کو آزاد کر تو یہ دونوں چیزیں واقع نہیں ہوں گی۔