الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الطَّلَاقِ بِالْكِتَايَةِ باب: اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمَّا أُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ وَدَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: ((هَبِي لِي نَفْسَكِ۔)) قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: ((لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسِهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا۔))۔ سیدنا ابو اسیدساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔