حدیث نمبر: 7162
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمَّا أُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ وَدَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: ((هَبِي لِي نَفْسَكِ۔)) قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: ((لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسِهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو اسیدساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔

وضاحت:
فوائد: … اصل واقعہ یوں ہے کہ نعمان بن جون کندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں آپ کی شادی امیمہ بنت نعمان بن شراحیل سے نہ کرا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ کو بطور نمائندہ نکاح بھیجا، وہ اس خاتون کو لے آئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے، آپ کا کسی کو قبول کر لینا ہی شادی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہبہ کرنے کی بات دلجوئی کے لیے کی تھی، وگرنہ وہ شرعاً آپ کی بیوی بن چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کو ترجیح دی اور اس کو واپس بھیج دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7162
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5255، 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16158»