حدیث نمبر: 7159
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ امْرَأَتَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، هِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو عجلان کے آدمی سیدنا عویمر نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! اب اگر میں لعان کے بعد بھی اس کو اپنے گھر رکھوں تو یہ تو میرا اس پر ظلم ہو گا، لہٰذا اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔ ایک روایت میں ہے: انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ایک روایت میں ہے: یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔

وضاحت:
فوائد: … اس روایت میں تین طلاقوں کا بیک وقت اثر انداز ہو جانا، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ لعان سے نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، آگے چل کر لعان کی وضاحت ہو گی، جبکہ مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ طلاقٰن تین دی تو جاتی تھیں، لیکن اثر ایک طلاق کا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7159
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423، 4745، 4746، 5309، 7166، 7304، ومسلم: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23219»