الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الثَّلَاثِ مُجْتَمِعًا وَ مُتَفَرِقًا باب: اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان
حدیث نمبر: 7158
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زمانۂ خلافت کے شروع کے دو برسوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس کام میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں انہیں نہایت سوچ بچار سے قدم رکھنا چاہیے تھا، لہٰذا اگر ہم تینوں طلاقیں جاری ہونے کا فیصلہ کر دیں، پھر انھوں نے یہ فیصلہ جاری کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ تعزیر اور سزا کے طور پر تھا، یہ ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ تھا، شرعی حکم اپنی جگہ پر برقرار ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اختیار کیا جاتا تھا، حنفی علماء نے بھی اس کو تعزیری اور سیاسی فیصلہ تسلیم کیا ہے جو کہ ایک حاکم وقت بعض اوقات جاری کر دیتا ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فقہ حنفی کی معروف کتاب جامع الرموز کتاب الطلاق اور حاشیہ طحطاوی۔