الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الثَّلَاثِ مُجْتَمِعًا وَ مُتَفَرِقًا باب: اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟)) قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَالَ: ((فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ)) قَالَ: فَرَجَعَهَا، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو مطلب والے سیدنا رکانہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں اور پھر بہت سخت غمگین ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس طرح طلاق دی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی مجلس میں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو ایک ہی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتے ہوتو کر لو۔ پس انھوں نے رجوع کر لیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکی رائے تھی کہ طلاق ہر طہر میں دی جائے۔